کیا سونے کے اوقات میں ٹانگوں اور پنڈلیوں میں شدید درد کا سامنا ہوتا ہے؟

اکثرآپ کو بھی رات کو سونے کے وقت ٹانگوں ، پنڈلیوں ، پیروں اور ران میں شدید درد کا احساس ہوتا ہوگا اور آپ اس درد کی وجہ سے سو نہیں پاتے ، آپ کو بے چینی ہونے لگتی ہے، تو کیا آپ جانتے ہیں یہ درد کیوں ہوتا ہے؟ اور اسے طبی زبان میں کیا کہا جاتا ہے؟

آپ نہیں جانتے تو آج ہم آپ کو بتاتے ہیں اسے طبی زبان میں "چارلی ہارس” کہتے ہیں جی ہاں پٹھوں میں کھچاوَ، ٹانگوں میں شدید درد، پٹھوں کا سخت ہو جانا، پنڈلیوں میں تکلیف ہونے کو دراصل چارلی ہارس کہا جاتا ہے۔  یہ درد رات کو چند سیکنڈز سے لے کر کئی منٹ تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث آپ سکون سے سو بھی نہیں سکتے۔

رات کے اوقات میں  یہ درد ہونا کافی عام بات  ہے، امریکی فیملی معالج  کی ایک رپورٹ کے مطابق 60 فیصد بزرگ، نوجوان اور 7 فیصد بچے رات کے وقت ٹانگوں کا درد محسوس کرتے ہیں۔

اس کی وجوہات کیا ہیں؟

پٹھوں میں تھکاوٹ:

 زیادہ دیر ورزش کرنے سے انسانی جسم کے پٹھے تھکاوٹ سے چور ہو جاتے ہیں اس کے سبب اکثر اُنہیں اس درد کا دن میں بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بعض اوقات لوگوں کی نوکری ایسی ہوتی ہے جس میں اُنہیں کافی وقت کھڑے رہ کر گزارنا پڑتا ہے، جس کے باعث پٹھے تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور دن کے اوقات میں درد ہوتا ہے اور پھر رات کو سوتے وقت آپ کو اس شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

غیر فعالیت:

اگر کوئی شخص ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر مسلسل کام کرتا ہے اور اپنے پٹھوں کو دیر تک حرکت نہیں دیتا تو وہ چارلی ہارس کا شکار ہو جاتا ہے۔

جسمانی پوزیشن:

 آپ کس طرح سے بیٹھے ہیں، مطلب یہ کہ اگر آپ زیادہ دیر کے لیے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر مستقل بیٹھے رہتے ہیں اور جسم کی پوزیشن کو بار بار تبدیل نہیں کرتے تو پٹھوں میں کھچاوَ بڑھ جاتا ہے اور یہ رات کے وقت شدید درد کا باعث بن سکتا ہے۔

بوڑھے افراد:

بڑھتی عمر کے ساتھ بوڑھے افراد کو رات کے وقت ٹانگوں میں درد ہونے کا  زیادہ امکان رہتا ہے۔ بی ایم سی فیملی پریکٹس نوٹ نامی جریدے کے مطابق، 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 فیصد افراد رات میں ٹانگوں کے درد کا شکار ہوتے ہیں۔

حمل:

حمل کے دوران خواتین کو ٹانگوں میں درد، پٹھوں میں کھچاوَ کی شکایت رہتی ہے یہ دراصل اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ حمل کے دوران خواتین کے جسم میں ہارمونز میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

طبی مسائل:

چند ایسی بیماریاں بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے کوئی بھی شخص ٹانگوں میں درد کا سامنا کر سکتا ہے۔ ان بیماریوں میں دل کی بیماری، شوگر ،گردے کے مسائل، جگر کی خرابی وغیرہ شامل ہیں۔

رات کو یہ درد کیوں ہوتا ہے؟

 یہ بھی تاحال واضح نہیں کہ چارلی ہارس اکثر نیند کے دوران کیوں سامنے آتا ہے مگر ماہرین کے پاس اس حوالے سے کچھ خیالات ہیں۔

راسوچ فزیکل تھراپی کے ڈاکٹر جوناتھن میلٹزر کے مطابق دن کے اختتام پر بہت زیادہ بیٹھنے، اپنے پٹھوں کو حرکت نہ دینے یا زیادہ ورزش کے نتیجے میں پٹھے تھکاوٹ اور اکڑن کا باعث  بنتے ہیں۔

اس کے علاوہ نیند کے دوران آپ کے جسم کی پوزیشن ایک ہی جگہ  پر ہے تو یہ اکڑن کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر آپ چت لیٹے ہیں اور پیر نیچے کی جانب لٹکے ہوتے ہیں تو طویل المعیاد بنیادوں پر پنڈلی کے پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور آپ کو چارلی ہارس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آپ اس وجہ سے سکون سے سو نہیں سکتے۔

اس کا حل کیا ہے؟

چہل قدمی:

 کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر سونے سے پہلے کچھ دیر چہل قدمی کر لی جائے تو اس سے آپ کے پٹھوں میں کھچاوَ کم ہو جاتا ہے اور آپ کو سوتے وقت درد نہیں ہوتا۔

مناسب مقدار میں پانی پینا:

اگرچہ ڈی ہائیڈریشن اور پٹھوں کی اکڑن کے حوالے سے تحقیقی نتائج ملے جلے ہیں مگر اس میں کوئی نقصان نہیں کہ مناسب مقدار میں پانی پینا عادت بنالیا جائے، طبی ماہرین کے مطابق ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ اس سے پٹھوں کی اکڑن کو کوئی فائدہ ہوگا یا نہیں، مگر یہ یقیناً نقصان دہ نہیں۔

آرام دہ جوتے پہننا:

 کچھ جوتے ایسے ہوتے ہیں جن میں ہمارے پیر آرام دہ نہیں ہوتے لیکن اگر ہم دن بھر ایسے جوتے پہنے جس میں ہمارے پیر آرام دہ رہیں تو رات کے وقت ہم چارلی ہارس سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

سونے کی پوزیشن:

سونے کی پوزیشن کو ایڈجسٹ کرنے سے بھی اس مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔

اگر رات کو شدید درد ہو تو کیسے درد سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے؟

پیروں کا مساج:

اگر رات کے وقت  پٹھوں میں کھچاوَ ، ٹانگوں میں شدید درد، پٹھوں میں اکڑن اور پنڈلیوں میں تکلیف کا سامنا ہو تو گھریلو ٹوٹکوں سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ گرم کپڑا درد کی جگہ پر رکھنا، درد کی جگہ پر مالش کرنا یا پھر برف کی ٹکور کرنے سے اور پیر کے تلوے پر سرسوں یا زیتون کے تیل کا مساج بھی اس درد کو ختم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

پیروں کی ورزش:

اس کے علاوہ اگر آپ کبھی نیند میں اس تکلیف کا شکار ہوں تو پیروں کی انگلیوں کو اپنے جسم کی جانب موڑنے سے بھی اس درد میں کافی حد تک  ریلیف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ:

"ڈاکٹر سے رجوع کریں”

اگر آپ چارلی ہارس کا شکار ہیں اور آپ کو اس تکلیف سے نجات نہیں مل رہا تو فوری اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

عائشہ ظہیر

متعلقہ پوسٹ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔