پاکستان میں ‘پب جی’ پر پابندی، گیم کے شوقین افراد بھڑک اٹھے

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے گزشتہ دنوں ’پب جی‘ گیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کرنے پر پب جی گیم کے شوقین افراد بھڑک اٹھے۔ جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ‘اَن بین پب جی اِن پاکستان’ کا ٹرینڈ مقبول ہوگیا ہے۔

پی ٹی اے نے مختلف طبقات کی جانب سے آن لائن گیم پب جی کے خلاف متعدد شکایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر پب جی گیم پر لگائی جانے والی پابندی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ٹوئٹر پر شانی نامی صارف نے لکھا کہ ‘یہ بات صاف لکھی ہوئی ہے کہ گیم 16 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے ہے۔ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں’۔

کاشف کھوسو لکھتے ہیں کہ ‘بے شمار لوگ ایسے ہیں جو ای اسپورٹ میں اپنا کیرئیر بنا رہے ہیں اور پب جی گیم نے انہیں موقع فراہم کیا ہے۔ میں پی ٹی اے سے اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان میں پب جی گیم سے پابندی ہٹائی جائے۔ ہر کوئی گیمنگ کمپیوٹر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا’۔

ایک اور صارف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’ یہ ہم سب نوجوانوں کی آواز ہے، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے 12 سال کی عمر کے بچوں کو سیل فون نہ دے’۔

ایک اور صارف فیضان خان لکھتے ہیں کہ ‘ہمارے دلوں سے مت کھیلا جائے، ہم گیمرز ہے دہشت گرد نہیں’۔

اسی طرح ٹوئٹر پر ایک اور صارف کہتے ہیں کہ ‘گیم کھیلنا جرم نہیں ہے’۔

واضح رہے کہ لاہور میں پب جی گیم کھیلنے سے منع کرنے پر اٹھارہ سالہ نوجوان نے خودکشی کر لی تھی۔ اس طرح کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی اے نے گزشتہ دنوں پب جی گیم پر پابندی عائد کی تھی۔

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

حرا اسحاق

حرا اسحاق نے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی ہے۔ صحافت کے شعبے سے پچھلے پانچ سال سے وابستہ ہیں، طالبِ علمی کے زمانے سے ہی کالمز، آرٹیکلز اور مضامین لکھتی رہی ہیں۔ رائنٹنگ کے علاوہ رپورٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس کے لیئے کام کرتی رہی ہے۔ ایک صحافی اور بلاگر کی حیثیت سے معاشرتی مسائل پر گہری نِگاہ رکھتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔