میرے محسن۔۔!

ترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی۔۔!

شفقت، محبت، ہمت، کردار، روشن خیال، پُرامید، اخلاقیات اور حوصلہ افزائی کے جذبے سے سرشار شخصیت، ہر ایک انسان کی زندگی کا ایک اہم اور خوبصورت رشتہ ہے۔
آج بھی دنیا میں لاکھوں کڑوروں ایسی شخصیات موجود ہیں، جو اپنے حُسنِ ہنر اور تعلیمات سے حیوانیت کو انسایت، لاشعور کو شعور، بے عقل کو عقل، جاہل کو عالم اور بے شمار انسانوں کو باکردار بنانے ا فرائض با خوبی سرانجام دے رہی ہیں۔ ہمارا اندازِ بیاں، طور طریقے، اخلاقیات اور روشن خیالی ہمیں ایک با وقار، با کردار اور با ہمت شخصیت سے منسوب کرتا ہے، کوئی شک نہیں ! اس شخصیت کو بنانے میں، ہمارے اساتذہ کا اہم کردار پیش پیش رہتاہے۔
والدین کے بعد ہمارے اساتذہ ہی ہمیں اِس مقام تک پہنچانے میں اپنا اولین کردار ادا کرتے ہیں، کہ ہم معاشرے میں اپنی ایک الگ پہچان اور اپنے نمایاں نام سے جانے پہچانے جائیں۔ سچ کہوں تو۔۔۔! میں باذاتِ خود جب آج خود کو اس اسٹیج پر دیکھتی ہوں، تو یقین نہیں آتا۔۔۔! اور یہ بے یقینی خُدا کے بعد اُن تمام اساتذہ کی یاد ضرور دلاتی ہے جن کی وجہ سے میری ایک الگ پہچان بنی۔
ہمیں کچھ خُداداد صلاحتیں خُدا کی طرف سے گفٹ کر دی جاتی ہیں ، اور اُنہیں مذید نکھارنے میں ہمارے اساتذہ کی توجہ، وقت، مسلسل محنت اور حوصلہ افزائی شامل رہتی ہے، جو دنیا کا باقی کوئی بھی شحض نہیں دے سکتا۔۔۔۔!
آج اس خوبصورت دن کے عوض اپنی تحریر کے ذریعے میں اُن تمام عظیم اساتذہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں، جو میرے ساتھ رہے، اور جو میرے ساتھ ساتھ ہیں۔ آپ سب کے لیے الفاظ کا سمندر بھی کم پڑ جائے۔۔۔!

سلامت رہیں۔

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

شاداب عباسی

شاداب عباسی، جنہوں نے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے ماسٹرز کیا ہے، فاؤنڈیشن اکیڈمی میں بطور ہیڈ ایڈمینسٹریٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ آسان، صاف، سہل و سادہ زبان اور حقیقت پر مبنی تحریر کو ترجیح دیتے ہوئے لفظوں کو قلم کی نظر کرتیں ہیں۔ آرٹیکل، اسکرپٹ رائیٹنگ اور سچائی پر مبنی تحریر لکھتی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ