ایرانی فلم "محمد دی میسج آف گاڈ” پر پابندی کا مطالبہ

ایرانی فلم "محمد دی میسنجر آف گاڈ” پر پوری دنیا کے مسلمان پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ فلم 2015 میں ایرانی سینما میں ریلیز ہوئی تھی، جس کی ہدایتکاری ماجد مجیدی نے کی جبکہ فلم کی اسٹوری کامبوزیہ پارٹووی نے لکھی ہے۔ یہ فلم ایرانی سینما کی سب سے بڑی پروڈکشن فلموں میں سے ایک ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس کی ڈبنگ کر کے اب یہ فلم 21جولائی 2020 کو ہندوستان میں ریلیز کی جا رہی ہے۔اس فلم کی موسیقی کی دھن ہندوستان کے مشہور موسیقار اے آر رحمن نے دی ہےجبکہ اس فلم کی تشہیر مڈ ڈے اخبار نے کی تھی۔

تاہم ہندوستانی مسلم جماعت "رضا اکیڈمی” نے فوری طور پر 21 جولائی 2020 کو ریلیز ہونے والی فلم کے خلاف احتجاج کیا اوراس اکیڈمی کے چئیرمین قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب نےعلماء اکرام کے ساتھ مل کر اجلاس منعقد کیا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ہم اپنی جان قربان کر دیں گے مگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ادنی سی بھی گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  محمد سعید نوری نے سینسر بورڈ آف انڈیا اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ اس فلم پر فوری پابندی عائد کی جائے،ورنہ مسلمان سڑکوں پر احتجاج کریں گے اور اے آر رحمن کے خلاف توہین رسالت پر مدد کرنے کے سلسلے میں مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، تاکہ آئندہ کوئی ہندوستانی اس قسم کے جرم کا ارتکاب  نہ کر سکے اور ساتھ ہی ساتھ اس فلم پر پوری دنیا میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رضا اکیڈمی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم پر پابندی عائد کی جائے۔

https://twitter.com/razaacademyho/status/1279819389248794624

اس ٹوئٹ کے بعد دنیا بھر میں امتِ مسلمہ نے اس فلم کی شدید مزمت کی اور فلم کو بین کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس طرح بائیکاٹ مووی آف پرافٹ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

سیف نامی صارف نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ہم اس فلم کی مخالفت کرتے ہیں اس پر پابندی لگائی جائے۔

سمیر نامی صارف نے ٹوئٹ کیا کہ اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنی ہے تو قرآن پاک پڑھ لیں۔

ایک اور صارف نے اپنے ٹوئٹ میں غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم کو بنانے اورنشر کرنے کی شدید مذمت کرتی ہوں یہ سب مسلمانوں کے لیے تکلیف کا باعث ہے ہمیں یہ فلم کسی قیمت پر بھی قبول نہیں ہے۔

منصور الحق نامی صارف نے لکھا کہ اس فلم پر ضرور پابندی لگائی جائے۔

ایمان نامی صارف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔ مسلم دنیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی توہین برداشت نہیں کرے گی-

رانا کامران نامی صارف نے لکھا کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی بھی قسم کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی زندگی کے ختم ہونے تک قربانی دیتے رہیں گے۔

https://twitter.com/Shaheen_IQBALka/status/1279993200242032641

واضح رہے کہ یہ فلم پیغمبر اسلام نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے دور میں اسلام کے اہم واقعات کے بارے میں ہے،  تاہم فلم کی ریلیز کے فوری بعد علمائے اکرام نے ہدایتکار اور فلم کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا اور اس فلم کو سینما کی زینت بنانے کے خلاف بھی مظاہرے کیے تھے۔ علماءاکرام کے مطابق فلم میں جھوٹی تعلیمات اور واقعات کو دکھایا گیا ہے، حالانکہ فلم 2015 میں ریلیز ہو چکی ہے لیکن اب بھی ٹوئٹر پر لوگ اس فلم پر پابندی کے لئے کوشاں ہیں.

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

عائشہ ظہیر

متعلقہ پوسٹ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔